ابنا: افغانستان کی وزارت خارجہ نے امریکہ اور نیٹو کو اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگي کا باعث قرار دیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان جانان موسی زئی نے کا بل میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے وقت سے واشنگٹن نے پاک افغان سرحدی علاقوں سے نکلنے کے بعد ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کی سرحدی چیک پوسٹوں کو پاکستانی فوج کے حوالے کر دیا تھا جو دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے اس اقدام پرتنقید کرتے ہوئے ان چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
اس سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی امریکی صدر باراک اوباما کو ایک خط لکھ کر امریکہ کے اس اقدام کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
ارنا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان جانان موسی زئی نے کا بل میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے وقت سے واشنگٹن نے پاک افغان سرحدی علاقوں سے نکلنے کے بعد ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کی سرحدی چیک پوسٹوں کو پاکستانی فوج کے حوالے کر دیا تھا جو دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے اس اقدام پرتنقید کرتے ہوئے ان چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
اس سے قبل افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی امریکی صدر باراک اوباما کو ایک خط لکھ کر امریکہ کے اس اقدام کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲